اڈپی یکم فروری (ایس او نیوز) گورنمنٹ ویمنس پی یو کالج میں حجاب کے مسئلہ پر ایک طرف کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر رگھورام بھٹ نے سخت ترین رویہ اپناتے ہوئے حجاب کے ساتھ طالبات کے کالج کیمپس میں ہی آنے پر پابندی لگادی تو دوسری طرف حجاب کے ساتھ ہی کلاس روم میں حاضری کا مطالبہ کرنے والی 6 طالبات میں سے ایک طالبہ ریشما فاروق کی جانب سے اس کے بھائی مبارک فاروق نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن داخل کرتے ہوئے حجاب پہننے کو بنیادی حق قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
رٹ پیٹیشن میں مطالبہ کیا ہے کہ حجاب کے ساتھ کلاس روم میں حاضر رہ کر تعلیم حاصل کرنے کو دستور ہند کی دفعہ 14، 15، 25 اور 26 کے تحت دئے گئے بنیادی حقوق کا حصہ قرار دیا جائے، کیونکہ حجاب پر عمل کرنا اسلامی تعلیمات کا ایک ضروری عنصر ہے ۔ ساتھ ہی یہ مانگ بھی کی گئی ہے کہ طالبات کو کالج انتظامیہ کی طرف سے کسی مداخلت کے بغیر کلاس میں حاضر رہنے کی اجازت دلائی جائے۔
اس درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ 28.12.2021 کو گورنمنٹ کالج فور گرلز اڈپی نے اسلامی عقیدہ اور تعلیمات پر عمل کرنے والی 8 طالبات کو کلاس میں حاضر ہونے کی اجازت نہیں دی ۔ ان طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے ان کے حصول تعلیم کے بنیادی حق سے روکا گیا ۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق حجاب پہننا ایک ضروری عمل ہے ۔ یہ ایک بنیادی حق ہے جس کا تحفظ حکومت کو کرنا چاہیے ۔ کالج انتظامیہ کا یہ اقدام پوری طرح مذہب کی بنیاد پر استحصال اور سیاسی طرز عمل ہے اور یہ غیر دستوری، من مانی اور بے دخلی پر مبنی رویہ کا عکاس ہے۔
توقع کی جارہی ہے کہ اس ہفتہ کے آخر تک ہائی کورٹ میں اس معاملہ کی پہلی سماعت ہوگی ۔ مدعی کی طرف سے ایڈوکیٹ شتابیش شیونّا، ارنو اے باگلواڈی اور ابھیشیک جناردھن پیروی کریں گے۔